ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / حوثی ملیشیا کا اپنے حلیف علی صالح کو گرفتارکرنے کا فیصلہ

حوثی ملیشیا کا اپنے حلیف علی صالح کو گرفتارکرنے کا فیصلہ

Tue, 05 Sep 2017 19:39:27    S.O. News Service

صنعاء،5ستمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)یمن میں آئینی حکومت کا تختہ الٹنے میں ملوث ایران نواز حوثی باغیوں اور ان کے حامی سابق مں حرف صدر کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر اپنے عروج کو پہنچ گئی ہے جس کے بعد حوثیوں نے سابق صدر کو حراست میں لینے اور انہیں صنعاء میں موجود اپنی رہائش گاہ سے صعدہ گورنری لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔یمن سے ملنے والے ذرائع کے مطابق حوثی ملیشیا نے سابق صدر علی عبداللہ صالح اور ان کی جماعت پیپلز کانگریس کے ساتھ اتحاد ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایران نواز حوثی باغی گروپ کے ایک سرکردہ لیڈرمحمد البخیتی نے الزام عاید کیا ہے کہ سابق مں حرف صدر ان کے ساتھ اتحاد رکھنے کے باوجود منافقانہ سیاست کررہے ہیں۔ البخیتی کے بہ قول علی صالح کی جماعت کے 24اگست کو صنعاء میں ہونے والے 35ویں تاسیسی اجتماع میں حوثیوں کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگوں کی بڑی تعداد صنعاء میں جمع کرنے کا مقصد علی صالح کا حوثیوں کے خلاف علم بغاوت بلند کرنا تھا۔ وہ احتجاج اور دھرنے کی آڑ میں (باغیوں کی قائم کردہ )حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے تھے۔

البخیتی کا کہنا ہے کہ اگر ہم اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت ترین اقدامات نہ کرتے تو علی صالح اور ان کی جماعت کا ھجوم حوثیوں کی حکومت کے لیے خطرہ بن سکتا تھا۔فیس بک پر پوسٹ ایک بیان میں محمد البخیتی نے سخت لب ولہجہ اختیار کرتے ہوئے علی صالح کی پارٹی رہ نماؤں اور کارکنوں پر زور دیا کہ وہ علی صالح کو جماعت سے نکال باہر کریں اور قیادت کسی دوسرے لیڈر کو سونپیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حوثی علی صالح کو ختم نہیں کرنا چاہتے مگر پیپلز کانگریس کی قیادت کسی دوسرے شخص کے ہاتھ میں ہونی چاہیے۔ادھر حوثیوں کیایک رکن پارلیمنٹ احمد سیف حاشد نے کہا ہے کہ حوثی علی عبداللہ صالح کے ٹھکانے سےآگاہ ہیں تاہم انہوں نے حوثیوں کو علی صالح کو قتل کرنے کسی بھی عزم سے باز رہنے پر زور دیا اور کہا کہ اگر حوثیوں کے ہاتھوں علی صالح مارا گیا تو ہم خود انہیں شہید لکھنے پر مجبور ہوں گے۔
 


Share: